(a)درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے ۔ جز واول (1) تھی وہ اک شخص کے تصور سے اب وہ رعنائی خیال کہاں (2) اصل شہو دو شاہد و مشہود ایک ہے حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں جز و دوم (3) پر تو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ (4) میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو عشق خود اک سیل ہے ، سیل کو لیتا ہے تھام عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام عشق کے مضراب سے نغمہ تارحیات عشق سے نور حیات ، عشق سے نارحیات [10]
(b)مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیجیے۔ (1) مجید امجد کی شاعری میں لمحہء موجود کی معنویت اجاگر کریں۔ [10]
(20)
Q. 3
(a)روایت اور درایت سے کیا مراد ہے؟ سیرۃ النبی ﷺ کی تالیف میں مولانا شبلی نے ان اصولوں کو کس حد تک اختیار کیا ؟ [15]
(b)درجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کیجیے نیز مضمون کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے ۔ اقتباس خود مختار حکومتوں میں ایک بڑا عیب یہ ہوتا ہے کہ ان میں سازشوں کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ہر شخص کی (خواہ وہ کوئی ہو ) یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سرکار کو خوش کر لیا جائے جس سے پیا خوش ، اسی کا راج ۔ اس سعی میں رقابت ہوتی ہے اور رقابت سے طرح طرح کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس کش مکش سے کذب وافترا، بہتان، مخبری ، غرض کوئی ایسی حرکت نہیں ہوتی جو حریف ایک دوسرے کے خلاف کام میں نہ لاتے ہوں ۔ یہ ایک عجیب اسرار ہے جس کا سلسلہ دور دور تک پہنچتا ہے اور عجیب رنگ میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور ایسے حیرت انگیز نتائج پیدا ہوتے ہیں جس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ [15]
(15)
Q. 4
(a)درج ذیل میں سے کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجیے ۔ نثر پارہ انسان کی زندگی بہت تھوڑی ہے، بہت مشکل ہے کہ وہ اس چند روزہ حیات میں تحصیل بھی کرے، پا یہ کمال کو بھی پہنچے اور ایسے کام کرے جنھیں بقائے دوام ہو اور خلق خدا کو ان سے فائدہ پہنچے۔ وقت ایک نعمت ہے اور خدا کی دوسری نعمتوں کی طرح انسان وقت پر اس کی بھی قدر نہیں کرتا اور قدر اس وقت ہوتی ہے جب کہ انسان کے پاس وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ انسان دنیا میں نہیں رہتا مگر اس کے اعمال رہ جاتے ہیں لیکن کتنے اعمال ایسے ہیں جنھیں بقا ہو اور جو قد رو وقعت سے دیکھے جاتے ہوں اور جولوگوں کے دلوں پر قبضہ رکھتے ہوں ۔ [10]
(b)بسنت اور برسات میں لاہور کا آسمان آپ کو کبھی بے رنگ ، اکتایا ہوا اور نچلا نظر نہیں آئے گا ۔ لاڈلے بچے کی طرح چیخ چیخ کے ہمہ وقت اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے اور توجہ کا طالب ہوتا ہے کہ ادھر دیکھو! اس وقت مجھے ایک شوخی سوجھی ہے۔ کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے۔ کبھی تاروں بھرا۔ بچوں کی آنکھوں کی مانند جگمگ جگمگ کبھی نوری فاصلوں پر کہکشاں کی افشاں ۔ اور کبھی اودی گھٹاؤں سے زرتار باراں ۔ کبھی تابنے کی طرح بیتے پیتے ایکا ایکی امرت برسانے لگا اور خشک کھیتوں اور اداس آنکھوں کو جل تھل کر گیا۔ ابھی کچھ تھا ، ابھی کچھ ہے ۔ گھڑی بھر کو قرار نہیں۔ کبھی مہرباں کبھی قہر بداماں ۔ پل میں اگن کنڈ ، پل میں نیل جھیل ۔ ذرا دیر پہلے تھل ، بیر صحراؤں کا غبار اٹھائے ، لال پیلی آندھیوں سے بھرا بیٹھا تھا۔ پھر آپی آپ دھرتی کے گلے میں بانہیں ڈال کے گھل گیا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ [10]
The 2019 CSS Urdu Literature paper set by the FPSC. Question wording only; questions marked “Not yet checked” have not been compared with the official paper yet.
Disclaimer Prep Right is independent and not affiliated with FPSC.