درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے۔
(a)ہے اپنی کشت ویراں، سر سبز یقین سے آئیں گے اس طرف بھی ایک روز ابر و باراں اک تمنا تھی کہ میں اک نیا گھر ، نئی منزل کہیں آباد کروں [10]
(b)ہے بے سبب نہیں شام و سحر کے ہنگامے اٹھا رہا ہے کوئی پر دہ ہائے راز و نیاز وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق ولب کی نجیہ گری فضا میں اور بھی نغمے بکھر نے لگتے ہیں [10]
(20)
Q. 3
کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھئے۔
(a)مولوی عبدالحق کی ادبی و علمی اور لسانی خدمات سے انکار نہیں۔ بطور خاکہ نگار وہ اہمیت کے حامل نہیں کیوں ؟ چند ہم عصر کے تناظر میں وضاحت کیجئے۔ [20]
(b)شبلی کا اسلوب اردو ادب میں اعلیٰ و ممتاز مقام رکھتا ہے۔ "سیرت النبی صلی الم" کے تناظر میں وضاحت کیجئے۔ [20]
(20)
Q. 4
کسی ایک اقتباس کی تشریح کریں۔ نیز مصنف و مضمون کا نام بھی لکھیے۔
(a)ان کا صبر و استقلال ان کے قناعت وبے نیازی اور ان کی غیرت اور وضع داری وہ خوبیاں ہیں جو انسانیت کو کمال انسانیت پر پہنچاتی اور فرشتوں سے بڑھا دیتی ہیں۔ رنج والم سہے مگر کبھی اف تک نہ کی۔ فاقے سے رہے مگر کیا مجال کہ بھول کر بھی زبان پر حرف شکایت آیا ہو۔ اور یہی نہیں بلکہ کسی دوسرے کی بھی یہ مجال نہ تھی کہ ان سے معمولی طریقہ پر سلوک کرنے کی جرات کر سکے یا ایسا خیال بھی دل میں لاسکے۔ محتاج رہے مگر ممکن نہ تھا کہ کسی کے سامنے دست سوال پھیلائیں۔ [20]
(b)قومی خدمت میں منہمک ہونے سے قبل بھی ان کا یہی حال تھا۔ ان کی اخلاقی جرات ، آزادی خیال، رواداری انصاف پسندی، بے تعصبی، فیاضی اور ہمدردی کے ہند و مسلمان سب قائل تھے۔ جس کام کو انھوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اسے کامل خلوص اور تن دہی سے انجام دیا۔ جب قومی خدمات کا بار اپنے سر لیا تو یہ شغف اور بڑھ گیا۔ اس دھن میں وہ سب کچھ بھول گئے۔ فرہاد شیریں اور نل کو دمن سے اتنا عشق نہ ہو گا جتنا انھیں اپنی قوم سے تھا۔ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے یہی ان کا درد تھا۔ وہ بلا مبالغہ فنافی القوم کے درجے کو پہنچ گئے تھے۔ [20]
(20)
Q. 5
کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجئے۔
(a)جب مسلمان بر اعظیم کے اس حصے میں داخل ہوئے اور اسے فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کیا تو نئے تہذیبی اثرات اور معاشرتی ضرورت کے تحت اس زبان میں مسلمانوں کی زبانوں کے الفاظ داخل ہونے لگے اور اس کی تشکیل نو کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ مسلمانوں کا کلچر فاتح قوم کا کلچر تھا۔ جس میں آگے بڑھنے اور پھیلنے کی پوری قوت تھی۔ الفاظ خیالات کا ذریعہ اظہار ہوتے ہیں۔ الفاظ کے ساتھ نئے خیالات بھی اس کلچر کے رگ وپے میں سرایت کرنے لگے اور یہاں کے منجمد معاشرے کے اندر عمل حرکت پیدا ہو گیا۔ [20]
(b)کسی گھر میں مرغے نے بانگ دی اور پھر بانگوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ یکا یک سب مرغے ایک دم یوں خاموش ہو گئے جیسے ان کے گلے ایک ساتھ گھونٹ دیئے گئے ہیں۔ پھر پورے گاوں کے کتے بھونکنے لگے ۔ پھر مشرق کی طرف سے ایسی آوازیں آئیں جیسے قریب قریب ہر را یب ہر رات آتی تھیں۔ بارڈر پر رینجر سمگلروں کے تعاقب میں ہوں گے پھر اس پر غنودگی سی چھانے لگی اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ پھر ایک دم کھولیں۔ بڑی آئی وہاں سے مجھے محتاج کہنے والی چکی پیستے پیستے ہاتھوں کی جلد ہڈی بن گئی ہے اور وہ مجھے محتاج کہتی ہے ! قیامت کے دن شور مچادوں گی کہ اسے پکڑو اس نے مجھ پر بہتان باندھا ہے۔ [20]
The 2022 CSS Urdu Literature paper set by the FPSC. Question wording only; questions marked “Not yet checked” have not been compared with the official paper yet.
Disclaimer Prep Right is independent and not affiliated with FPSC.