Not yet checked 1 of 5 questions have not yet been compared with the official paper.
Part II
Q. 2
(a)درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے۔
(b)یہ طہران جو تیرے خوابوں میں پاریس کا نقش ثانی تھا یوں تو یہاں رہگزاروں میں بہتا ہے ہر شام سیما فروشوں کا سیلاب جاری یہاں رقص گاہوں میں اب بھی بہت جھلملاتی ہیں محفل کی شمعیں یہاں رقص سے چور یا جام و بادہ سے مخمور ہو کر وطن کے بچاری باهنگ سنتور و تار و دف و نی لگاتے ہیں مل کر وطن ؛ اے وطن کی صدائیں مگر کون جانے یہ کس کا وطن ہے ؟ [20]
Not yet checked
(20)
Q. 3
(a)مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب لکھیے۔ ناصر کاظمی نے ہجرت کے دکھ کو اپنی تخلیق کا حصہ بنایا اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے فنی و فکری محاسن پر روشنی ڈالیے۔ یا مجید امجد نے شب رفتہ میں فرد کی تنہائی اور کرب کو شاعرانہ اداسی کا رنگ دیا ہے یہی ان کی شاعری کا غالب رنگ ہے۔ سیر حاصل تبصرہ کریں۔ [20]
(b)مشتاق احمد یوسفی کی کتاب " آب گم " کے محاسن پر روشنی ڈالیئے۔ یا خاکہ نگاری کے بنیادی لوازمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مولوی عبدالحق کی کتاب " چند ہم عصر " کا جائزہ لیں۔ [20]
(20)
Q. 4
(ب)
(a)مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کریں۔ نیز مصنف و مضمون کا نام بھی لکھیے۔ " مرد معمر نے جو غالباً کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ اپنا بھاری سر اٹھایا۔ جو گردن کی لاغری کی وجہ سے نیچے کو جھکا ہوا تھا۔۔۔۔ کہانی!۔ میں خود ایک کہانی ہوں مگر "۔ اس کے بعد کے الفاظ اس نے اپنے پو پلے منہ ہی میں بڑ بڑائے۔۔۔۔۔ شاید وہ اس جملے کو لڑکوں کے سامنے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا جن کی سمجھ اس قابل نہ تھی کہ وہ فلسفیانہ نکات حل کر سکے۔" [10]
(b)وسیع میدان کے چاروں طرف گیوں اور حقوں کے دور چل رہے تھے اور کھلاڑیوں کے ماضی اور مستقبل کو جانچا پرکھا جا رہا تھا۔ مشہور جوڑیاں ابھی میدان میں نہیں اتری تھیں یہ نامور کھلاڑی اپنے دوستوں اور عقیدت مندوں کے گھیرے میں کھڑے تھے [10]
Q. 5
(a)کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجئے۔ ایسے بھی محتاط لوگ ہیں جو پیکار و فشار زیست سے بچنے کی خاطر خود کو بے عملی کے حصار عافیت میں قید رکھتے ہیں۔ یہ بھاری اور قیمتی پردوں کی طرح لٹکے لٹکے ہی لیر لیر ہو جاتے ہیں۔ کچھ گم صم گھمبیر لوگ اس دیوار کی مانند تڑختے ہیں جس کی مہین سی دراڑ جو عمدہ پینٹ یا کسی آرائشی تصویر سے بآسانی چھپ جاتی ہے اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ نیو اندر ہی اندر کسی صدمے سے زمین میں دھنس رہی ہے۔ بعض لوگ چینی کے برتن کی طرح ٹوٹتے ہیں کہ مسالے سے آسانی سے جڑ تو جاتے ہیں مگر بال اور جوڑ پہلے نظر آتا ہے بر تن بعد میں۔ اس کے برعکس کچھ ڈھیٹ اور چپکو لوگ ایسے اٹوٹ مادے کے بنے ہوتے ہیں کہ چیونگم کی طرح کتنا ہی چباوٹوٹنے کا نام نہیں لیتے ۔ یہ چیونگم لوگ خود آدمی نہیں، پر آدم شناس ہیں۔ یہ کامیاب و کامران و کام گار لوگ ہیں۔ یہ وہ ہیں جنھوں نے انسان کو دیکھا، پر کھا اور برتا ہے اور جب اسے کھوٹا پایا تو خود بھی کھوٹے ہو گئے۔ وقت کی اٹھتی موج نے اپنے حباب کا تاج ان کے سر پہ رکھا اور ساعت گزراں نے اپنے تخت رواں پہ بٹھایا۔۔ [20]
(b)یہ سب ثقافتی سمجھوتے تسخیر و تالیف قلوب کی خاطر قرن بہ قرن ہوا کیے مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ دل کو سمجھانے والی بات تھی۔ آداب عرض اور آہنگ خسروی آنے والی رستاخیز میں کسی کی جان و مال کو ۔۔۔۔۔ حتی کہ خود سمجھوتے کی زبان کو بھی۔۔۔۔ نہ بچا سکے۔ وقت نے ایسے تمام دل خوش کن اور آرائشی سمجھوتوں کو خونابہ برباد کر دیا۔ مخمل کمخواب کے غلاف گرتی ہوئی دیواروں کو گرنے سے نہیں روک سکتے۔ چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ زبان یار تو قلم کر دی جائے اخلاص ورواداری کا پرچم سر نگوں ہو جائے مگر کلچر کام گار و فتح یاب ہو۔ [20]
The 2020 CSS Urdu Literature paper set by the FPSC. Question wording only; questions marked “Not yet checked” have not been compared with the official paper yet.
Disclaimer Prep Right is independent and not affiliated with FPSC.